عربی (اصل)
251 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If people knew what is in the call to prayer and the first row, and they could find no way except to draw lots, they would draw lots. If they knew what is in coming early to prayer, they would race to it. And if they knew what is in the Isha and Fajr prayers, they would come to them even if they had to crawl."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے سے کتنا ثواب ملتا ہے، پھر ان کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہ رہتا، تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لیے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے، تو اس کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے، تو وہ ان کے لیے ضرور چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے آتے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 251]
