عربی (اصل)
236 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ الأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ؛ فَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ(راوي الحديث)فَذَكَرْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ؛ فَقَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha: When the Prophet's illness became severe, he asked about the prayers. He said: "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." I said: "O Messenger of Allah, Abu Bakr is a tender-hearted man. When he stands in your place, he will not be able to make the people hear him. Why not tell Umar?" He said: "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." I said to Hafsah: "Tell him that Abu Bakr is a tender-hearted man." Hafsah said so, and he said: "You are like the companions of Yusuf (Joseph). Tell Abu Bakr to lead the people in prayer."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بیماری بڑھی اور تکلیف شدید ہو گئی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں ایامِ مرض گزارنے کی اجازت چاہی اور آپ کی بیویوں نے اجازت دے دی، تو آپصلی اللہ علیہ وسلماس طرح تشریف لائے کہ دونوں قدم زمین سے رگڑ کھا رہے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلماس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب کے درمیان تھے، عبیداللہ (حدیث کے راوی) نے بیان کیا کہ پھر میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن کا نام نہیں لیا جانتے ہو وہ کون تھے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 236]
