عربی (اصل)
1851 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَ النَبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ يَوْمَئِذٍ ابْنُ صَيَّادٍ يَحْتَلِمُ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاَذَا تَرَى قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسأْ فَلَنْ تَعْدُو قَدْرَكَ قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْهُ، فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ، فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated the full account of Umar going with a group of Companions along with the Prophet (peace be upon him) toward Ibn Sayyad, whom they found playing with children near the fortress of Banu Mughala. The Prophet (peace be upon him) approached him stealthily and asked him questions to test whether he was the Dajjal. Ibn Sayyad said: "I see a throne on water." The Prophet said: "You see the throne of Iblis." Ibn Sayyad then said: "I see both truthful and lying (messages coming to me)." The Prophet said: "The matter has been confused for you." He then said: "I have kept something hidden for you." Ibn Sayyad said: "It is al-dukh (the smoke)." The Prophet said: "Silence! You cannot go beyond your rank." Umar said: "Let me strike his neck." But the Prophet said: "If he is the one (the Dajjal), you will not be able to overpower him, and if he is not, there is no good in killing him."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت جن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ابن صیاد (یہودی لڑکا) کے یہاں جا رہی تھی۔ آخر بنو مغالہ (ایک انصاری قبیلے) کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ان لوگوں نے اسے پا لیا، ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اسے (رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی آمد کا) پتہ نہ چلا، حتیٰ کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے (اس کے قریب پہنچ کر) اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا اور فرمایا:«أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟»”کیا تو اس کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا:«أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ»”ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے نبی ہیں۔“اس کے بعد اس نے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا:«أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟»”کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“آپ نے اس کا جواب (صرف اتنا) دیا:«آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ»”میں اللہ اور اس کے (سچے) انبیاء پر ایمان لایا۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:«مَاذَا تَرَى؟»”تو کیا دیکھتا ہے؟“اس نے کہا:«يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ»”میرے پاس ایک خبر سچی آتی ہے تو دوسری جھوٹی بھی۔“آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:«خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ»”حقیقتِ حال تجھ پر مشتبہ ہو گئی ہے۔“آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے فرمایا:«إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا»”اچھا! میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے (بتا وہ کیا ہے؟)“ابن صیاد بولا:«هُوَ الدُّخُّ»”دھواں۔“نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ»”ذلیل ہو! کمبخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:«يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ»”یا رسول اللہ! مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں۔“لیکن آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ»”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر قادر نہیں ہو سکتے اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کی جان لینے میں کوئی خیر نہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1851]
