عربی (اصل)
1837 صحيح حديث حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رضي الله عنه، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ: أَنَا، كَمَا قَالَهُ قَالَ: إِنَّكَ عَلَيْهِ(أَوْ عَلَيْهَا)لَجَرِيءٌ قُلْتُ: فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْيُ قَالَ: لَيْسَ هذَا أُرِيدُ وَلكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ: أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ: يُكْسَرُ قَالَ: إِذًا لاَ يُغْلَقَ أَبَدًا قُلْنَا: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ: نَعَمْ كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: الْبَابُ عُمَرُ
انگریزی ترجمہ
Hudhayfah (may Allah be pleased with him) narrated: We were sitting with Umar (may Allah be pleased with him) when he said: "Who among you remembers the words of the Messenger of Allah (peace be upon him) about the tribulations?" I said: "I do, just as he said them." He said: "You are bold indeed. Tell us." I said: "A man's tribulation regarding his family, his property, his children, and his neighbors are expiated by prayer, fasting, charity, and enjoining good and forbidding evil." Umar said: "I am not asking about that. I am asking about those tribulations that will surge like waves of the sea." Hudhayfah said: "Between you and them is a closed door, O Commander of the Faithful." Umar asked: "Will the door be opened or broken?" He said: "It will be broken." Umar said: "Then it will never be closed again." Hudhayfah was asked: "Did Umar know who the door was?" He said: "Yes, just as he knew that tomorrow comes before the night after it." The door was Umar himself.
اردو ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنے سے متعلق رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا: میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمنے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے فتنوں کو معلوم کرنے میں بہت بے باک تھے۔ میں نے کہا کہ”انسان کے گھر والے، مال، اولاد اور پڑوسی سب فتنے (کی چیز) ہیں؛ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اس فتنے کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیں؛ آپ کے اور فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: توڑ دیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ پھر تو وہ کبھی بھی بند نہیں ہوسکے گا۔ شقیق (راویِ حدیث) نے کہا کہ ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازے کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں۔ راوی کا کہنا ہے کہ ہمیں اس کے متعلق سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا (کہ دروازے سے کیا مراد ہے) اس لیے ہم نے مسروق سے کہا (کہ وہ پوچھیں)، انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا وہ دروازہ خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1837]
