عربی (اصل)
1834 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ لأَنْصُرَ هذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ: أَنْصُرُ هذَا الرَّجُلَ قَالَ: ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ
انگریزی ترجمہ
Al-Ahnaf ibn Qays narrated: I went to help a certain man (during the fitnah), and Abu Bakrah met me and said: "Where are you going?" I said: "I am going to help this man." He said: "Go back, for I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'When two Muslims face each other with their swords, both the killer and the killed will be in the Fire.' I said: 'O Messenger of Allah, as for the killer, I understand. But what about the killed?' He said: 'He too was eager to kill his companion.'"
اردو ترجمہ
احنف بن قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس شخص (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کو چلا، راستے میں مجھ کو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے پوچھا: کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا: اس شخص (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں، سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے گھر کو لوٹ جاؤ، میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے تھے:”جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں، تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔“میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! قاتل تو خیر (ضرور دوزخی ہونا چاہیے) مقتول کیوں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا۔“(موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا اس لیے دل کے پختہ ارادے پر وہ دوزخی ہوا)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1834]
