عربی (اصل)
1824 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ، فَيُقعِدَانِهِ فَيقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هذَا الرَّجُلِ(لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا
انگریزی ترجمہ
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "The people of Paradise will see the people of the upper chambers above them as you see a planet in the horizon of the sky."
اردو ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے (منکر نکیر) اس کے پاس آتے ہیں، وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص، یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپصلی اللہ علیہ وسلماللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جائے گا کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تیرے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1824]
