عربی (اصل)
1815 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:(إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا)انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ وَذَكَرَ النِّسَاءَ فَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ، يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، وَقَالَ لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "It will be said to the people of Paradise: 'Verily, you shall live and never die, you shall be healthy and never fall ill, you shall be young and never grow old, and you shall be in bliss and never suffer.'"
اردو ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے ایک خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:”﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾[سورة الشمس: 12]یعنی اس اونٹنی کو مار ڈالنے کے لیے ایک مفسد بدبخت (قدار نامی) جو اپنی قوم میں ابوزمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا، اٹھا۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا:”تم میں سے بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں، حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہم بستری بھی کرتے ہیں۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں ہوا خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا:”ایک کام جو تم میں سے ہر شخص کرتا ہے، اسی پر تم دوسروں پر کس طرح ہنستے ہو؟“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1815]
