عربی (اصل)
1792 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي، مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي(قَالَ عَبْدُ اللهِ): وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْييْتُ ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا، مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Umar: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is a tree among the trees whose leaves do not fall, and it is the likeness of the Muslim. Tell me what it is." The people fell to thinking about the trees of the desert. Abdullah said: I thought it was the date palm, but I felt too shy to speak. Then they said: "Tell us what it is, O Messenger of Allah." He said: "It is the date palm."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں اپنی (کم سنی کی) شرم سے نہ بولا۔ آخر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ کھجور کا درخت ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1792]
