عربی (اصل)
1767 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، لَمَّا تُوُفِّيَ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، وَصلِّ عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَمِيصَهُ فَقَالَ: آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَه فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، جَذَبَهُ عُمَرُ رضي الله عنه فَقَالَ: أَلَيْسَ اللهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ: أَنَا بَيْنَ خِيْرَتَيْنِ قَالَ(اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّة، فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ)فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ(وَلاَ تصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا)
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Umar: When Abdullah ibn Ubayy died, his son came to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, give me your shirt so I may shroud him in it, pray over him, and seek forgiveness for him." The Prophet (peace be upon him) gave him his shirt and said: "Notify me so I may pray over him." When he was about to pray over him, Umar pulled him and said: "Has Allah not forbidden you from praying over the hypocrites?" He said: "I am given two choices," and he said: "Whether you ask forgiveness for them or do not ask forgiveness for them — if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will never forgive them." So he prayed over him. Then the verse was revealed: "And do not pray over any of them who dies, ever."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا (عبداللہ صحابی) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں آیا اور عرض کی:”یا رسول اللہ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھیے اور مغفرت کی دعا کیجیے۔“چنانچہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی قمیص (غایتِ مروت کی وجہ سے) عنایت کی اور فرمایا:”مجھے بتانا میں نمازِ جنازہ پڑھوں گا۔“عبداللہ نے اطلاع بھجوائی، جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کی کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا ارشادِ باری ہے:﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يُغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾[سورة التوبة: 80]”تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔“”چنانچہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے نماز پڑھائی، اس کے بعد یہ آیت اتری:﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا﴾[سورة التوبة: 84]”کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نمازِ جنازہ کبھی نہ پڑھانا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1767]
