عربی (اصل)
1747 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: للهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ، مِنْ رَجُلٍ نَزَلَ مَنْزِلاً، وَبِهِ مَهْلَكَةٌ، وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ، فَنَامَ نَوْمَةً، فَاسْتَيْقَظَ، وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ حَتَّى اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْحَرُّ وَالْعَطَشُ، أَوْ مَا شَاءَ اللهُ، قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي فَرَجَعَ، فَنَامَ نَوْمَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَهُ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever repents before the sun rises from the west, Allah will accept his repentance."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے کسی پرخطر جگہ پڑاؤ کیا ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو اور اس پر کھانے پینے کی چیزیں موجود ہوں، وہ سر رکھ کر سو گیا ہو اور جب بیدار ہوا ہو تو اس کی سواری غائب رہی ہو، آخر بھوک و پیاس یا جو کچھ اللہ نے چاہا اسے سخت لگ جائے، وہ اپنے دل میں سوچے کہ مجھے اب گھر واپس چلا جانا چاہیے اور جب وہ واپس ہوا اور پھر سو گیا لیکن اس نیند سے جو سر اٹھایا تو اس کی سواری وہاں کھانا پینا لیے ہوئے سامنے کھڑی ہے، تو خیال کرو اس کو کس قدر خوشی ہو گی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1747]
