عربی (اصل)
1690 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَة إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ، تَعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ فَقَالَ: اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا، فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّم بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلاَثَةً، إِلاَّ كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللهِ اثْنَيْنِ قَالَ: فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Shall I inform you of what al-adhu is? It is the namimah (tale-bearing) — conveying talk between people to cause trouble."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔“چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمان کے پاس تشریف لائے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ کو سکھایا تھا۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ ان کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔“اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو (بچے)؟ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس عورت نے اس کلمہ کو دو مرتبہ دہرایا، پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1690]
