عربی (اصل)
167 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ؛ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَبْرِى مِنَ الْبَوْلِ؛ وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ فَعَلْتَ هذَا قَالَ: لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا
انگریزی ترجمہ
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (peace be upon him) passed by two graves and said: "These two are being punished, and they are not being punished for something major. As for one of them, he used to not protect himself from urine (i.e., was careless about it splashing). As for the other, he used to walk about spreading malicious gossip." Then he asked for a fresh palm branch, broke it in two, and placed one piece on each grave. He said: "Perhaps their punishment will be lightened so long as these do not dry out."
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمدو قبروں پر سے گزرے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور کسی بڑے گناہ پر نہیں۔ ایک تو ان میں سے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک ہری ٹہنی لے کر بیچ سے اس کے دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا، لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (ایسا) کیوں کیا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”شاید جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں، ان پر عذاب میں کچھ تخفیف رہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 167]
