عربی (اصل)
1615 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ فَقَالُوا: هذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، تَجَوَّزَ فِيهِمَا، ثُمَّ خَرَجَ وَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ، قَالُوا: هذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ: وَاللهِ مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لاَ يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَّنِّي فِي رَوْضَةٍ(ذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا)وَسْطَهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ، أَسْفلُهُ فِي الأَرْضِ وَأَعْلاَهُ فِي السَمَاءِ فِي أَعْلاَهُ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لَهُ ارْقَهْ قُلْتُ لاَ أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فَرَقِيتُ، حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلاَهَا فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ لَهُ: اسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تِلْكَ الرَّوْضَةُ الإِسْلاَمُ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ، وِتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الوُثْقى فَأَنْتَ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ وَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated 'Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him): Qays ibn 'Ubad said, "I was sitting in the mosque of Madinah when a man entered with signs of reverence on his face. They said, 'This is a man from the people of Paradise.' He prayed two brief rak'ahs, then left. I followed him and said, 'When you entered the mosque, they said you are a man from the people of Paradise.' He said, 'By Allah, it is not fitting for anyone to say what he does not know. But I will tell you why: I saw a dream during the time of the Prophet (peace be upon him) and told it to him. I saw myself in a garden — he mentioned its vastness and greenery — and in its center was an iron pillar, its base in the earth and its top in the sky, with a handhold at its top. I was told to climb it. I said I cannot. A helper came and lifted my garments from behind, and I climbed until I was at the top. I grasped the handhold. It was said, 'Hold on firmly.' I woke up and it was still in my hand. I told it to the Prophet (peace be upon him), and he said: 'That garden is Islam, that pillar is the pillar of Islam, and that handhold is the most trustworthy handhold. You shall remain upon Islam until you die.'" That man was 'Abdullah ibn Salam.
اردو ترجمہ
قیس بن عباد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار ظاہر تھے، لوگوں نے کہا: یہ بزرگ جنتی لوگوں میں ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصر طریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے ہولیا اور عرض کی کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے میں میں نے ایک خواب دیکھا اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے اسے بیان کیا، میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا، اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا کھمبا ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ، میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے، اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے۔ ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری نیند کھل گئی، یہ خواب جب میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تو اسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کا ستون ہے اور عروہ (گھنا درخت)«الْعُرْوَةُ الْوُثْقَىٰ»”عروۃ الوثقی“ہے، اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے۔“یہ بزرگ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1615]
