عربی (اصل)
1593 صحيح حديث عَائِشَةَ، وَفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ عَنْ عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا، أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تَمْشِي، لاَ، وَاللهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مَشْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ قَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ فَقُلْتُ لَهَا، أَنَا مِنْ بَيْنَ نِسَائِهِ: خَصَّكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا: عَمَّا سَارَّكِ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِيَ قُلْتَ لَهَا: عَزَمْتُ عَلَيْكِ، بَمَا لِي عَلَيْكِ مَنَ الْحَقِّ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي قَالَتْ: أَمَّا الآنَ، فَنَعَمْ فَأَخْبَرَتْنِي، قَالَتْ: أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الأَمْرِ الأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي: أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ، الْعَامَ، مَرَّتَيْنِ، وَلاَ أَرَى الأَجَلَ إِلاَّ قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، قَالَ: يَا فَاطِمَةُ أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هذِهِ الأُمَّةِ
انگریزی ترجمہ
Narrated 'A'ishah (may Allah be pleased with her): All of us, the wives of the Prophet (peace be upon him), were with him — not one of us was missing — when Fatimah (peace be upon her) came walking. By Allah, her gait was not unlike the gait of the Messenger of Allah (peace be upon him). When he saw her, he welcomed her saying, "Welcome, my daughter." Then he seated her on his right or his left side and whispered something to her, and she wept bitterly. When he saw her grief, he whispered to her a second time, and she smiled. I said to her — I among all his wives — "The Messenger of Allah has singled you out with a secret, and yet you cry?" When the Messenger of Allah (peace be upon him) got up, I asked her, "What did he whisper to you?" She said, "I would not disclose the secret of the Messenger of Allah." After he passed away, I said to her, "I adjure you by the right I have over you, tell me." She said, "Now, yes." She told me: "When he first whispered to me, he told me that Jibril used to review the Qur'an with him once every year, but this year he had reviewed it with him twice, and he did not think his end was far away. He said, 'Fear Allah and be patient, for I am an excellent predecessor for you.' So I wept as you saw. When he saw my distress, he whispered to me a second time, saying, 'O Fatimah, are you not pleased to be the leader of the women of the believers, or the leader of the women of this Ummah?'"
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواجِ مطہرات (نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے مرضِ وفات میں) آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی)، جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا:”بیٹی!«مَرْحَبًا»”خوش آمدید““پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلمکی وفات ہو گئی تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا:”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال انہوں نے مجھ سے دو مرتبہ دور کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں“۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا:”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی؟“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1593]
