عربی (اصل)
1585 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَسَمِعْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ:(مَعَ الَّذِين أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ)الآيَةَ فَظَننْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
انگریزی ترجمہ
Narrated 'A'ishah (may Allah be pleased with her): I had heard that no prophet dies until he is given the choice between this world and the Hereafter. I heard the Prophet (peace be upon him) in his final illness — his voice was hoarse — reciting, "With those upon whom Allah has bestowed favor" (the verse). I then understood that he was being given the choice.
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت میں رہنے کا اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے، آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی، آپ آیت﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ﴾[سورة النساء: 69]کی تلاوت فرما رہے تھے (یعنی”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے“)، مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1585]
