عربی (اصل)
1549 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرِيتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوٍ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ نَزْعًا ضَعِيفًا، واللهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated 'Abdullah ibn 'Umar (may Allah be pleased with them): The Prophet (peace be upon him) said, "I saw in a dream that I was drawing water with a bucket from a well. Abu Bakr came and drew one or two buckets, drawing weakly — may Allah forgive him. Then 'Umar ibn al-Khattab came, and the bucket turned into a very large one. I have never seen a genius perform such feats as 'Umar did, until the people were fully watered and their camels knelt down."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں، جس سے جوان اونٹنی کو دودھ پلاتے ہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ،«وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ»”اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔“پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کر سکتا ہو۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1549]
