عربی (اصل)
1530 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
انگریزی ترجمہ
Abu Mas'ud al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The one who leads the people in prayer should be the one who knows the most of the Book of Allah. If they are equal, then the one who knows the most Sunnah. If they are equal in that, then the one who emigrated earliest. If they are equal in emigration, then the eldest. A man should not lead another in his place of authority, and he should not sit in his special place in his house without permission."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا:﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾[سورة البقرة: 260]”اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم ایمان نہیں لائے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، لیکن یہ صرف اس لیے تاکہ میرے دل کو اور زیادہ اطمینان ہو جائے“اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے کہ وہ زبردست رکن (یعنی خداوند کریم کی پناہ لیتے تھے) اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک سیدنا یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں بلانے والے کی بات ضرور مان لیتا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1530]
