عربی (اصل)
1519 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Faith has over sixty or over seventy branches. The highest is the declaration that there is no god but Allah, and the lowest is removing something harmful from the road. And modesty is a branch of faith."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک انصاری مرد نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے میں جس کا پانی مدینے کے لوگ کھجور کے درختوں کو دیا کرتے تھے، اپنے جھگڑے کو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پیش کیا۔ انصاری زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: پانی کو آگے جانے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا اور یہی جھگڑا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پیش تھا۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:”(پہلے اپنا باغ) سینچ لے، پھر اپنے پڑوسی بھائی کے لیے جلدی جانے دے۔“اس پر انصاری رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور انہوں نے کہا: ہاں زبیر آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں نا۔ بس رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے زبیر! تم سیراب کر لو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1519]
