عربی (اصل)
1489 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً، فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ، لأَبِى طَلْحَةَ، عُرْيٍ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ: لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا ثُمَّ قَالَ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ قَالَ: إِنَّهُ لَبَحْرٌ
انگریزی ترجمہ
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (peace be upon him) was the most handsome, the most generous, and the bravest of people. One night the people of Madinah were alarmed by a noise. People went out toward the sound, and the Prophet (peace be upon him) met them coming back, having already checked the source of the alarm. He was riding a horse belonging to Abu Talhah, bareback, with a sword around his neck. He said: "Do not be afraid, do not be afraid." He then said: "I found it (the horse) to be like a sea" — meaning very swift.
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ (پر ایک آواز سن کر) بڑا خوف چھا گیا تھا، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسب سے آگے تھے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہی واقعہ کی تحقیق کی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمسیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور آپصلی اللہ علیہ وسلمفرما رہے تھے:«لَنْ تُرَاعُوا»”ڈرو مت“۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«إِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا»”ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے“یا (یہ فرمایا کہ)”گھوڑا جیسے سمندر ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1489]
