عربی (اصل)
1480 صحيح حديث عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلكِنِّي أَخْشى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا، أَنْ تَنَافَسُوهَا
انگریزی ترجمہ
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) offered the funeral prayer for the martyrs of Uhud after eight years, like one bidding farewell to both the living and the dead. Then he ascended the pulpit and said: "I am your forerunner and I am a witness over you. Your meeting place with me is at the Cistern. I can see it from where I stand now. I do not fear that you will associate partners with Allah, but I fear that you will compete with each other for worldly gain."
اردو ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہدا پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں، اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا:”میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے (قیامت کے دن) تمہاری ملاقات حوض (کوثر) پر ہوگی۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1480]
