عربی (اصل)
1470 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ، وَهُوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَاسْتَظَلَّ بِهَا، وَعَلَّقَ سَيْفَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْنَا، فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: إِنَّ هذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاخْتَرَطَ سَيْفِي فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، مُخْتَرِطٌ صَلْتًا قَالَ: مَنْ يَمْنَعكَ مِنِّي قُلْتُ: اللهُ فَشَامَهُ، ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هذَا قَالَ: وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
انگریزی ترجمہ
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) narrated: We went on the expedition of Najd with the Messenger of Allah (peace be upon him). At midday rest in a valley full of thorny trees, the Prophet rested under a tree and hung his sword on it. A man came and took his sword while the Prophet slept, then said: "Who will protect you from me?" The Prophet said: "Allah." The man dropped the sword, and the Prophet did not punish him.
اردو ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے، دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے درخت بہت تھے، آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لیے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار لٹکا دی، صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے، ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں پکارا، ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا، حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ شخص میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا، اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا، مجھ سے کہنے لگا: آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ! (وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ) تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا اور دیکھ لو یہ بیٹھا ہوا ہے۔“حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے کوئی سزا نہیں دی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1470]
