عربی (اصل)
1332 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلاَثَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ، قَالَ: فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي، وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،[ص:28]ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ، أَوْ قَالَتْ: ضَيْفِكَ قَالَ: أَوَ مَا عَشَّيْتِيهِمْ قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِي، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا قَال: فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ: كُلُوا، لاَ هَنِيئًا فَقَالَ: وَاللهِ لاَ أَطْعُمُه أَبَدًا وَايْمُ اللهِ مَا كُنّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلاَّ رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا، قَالَ: يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا، وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهَا فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هذَا قَالَتْ: لاَ، وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلاَثِ مَرَّاتٍ فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضى الأَجَلُ فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً، مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ، اللهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ، أَوْ كَمَا قَالَ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If a fly falls into the drink of one of you, let him submerge it fully and then remove it, for in one of its wings there is a disease and in the other there is a cure."
اردو ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اصحابِ صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے (اصحابِ صفہ میں سے کسی) کو اپنے ساتھ لیتا جائے۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔“پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمدس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ، ماں اور میں تھا، نیز میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور (میرے والد) ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لیے تھا، بھی تھے۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے یہاں ٹھہر گئے (اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا، صورت یہ ہوئی کہ) نمازِ عشاء تک وہیں (مسجد میں) رہے۔ پھر (مسجد سے) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے، تاآنکہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی کھانا کھا لیا۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی (ام رومان رضی اللہ عنہا) نے کہا: کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی، یا یہ کہا کہ مہمان کی خبر نہ لی۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا؟ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں کیا کروں، آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کیا، کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (عبدالرحمن کو) پکارا:«يَا غُنْثَرُ!»”اے غنثر! (یعنی او پاجی)“آپ نے برا بھلا کہا اور کوسنے دیے۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو! خدا کی قسم! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ (آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا) (عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا) خدا گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی جتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ اپنی بیوی سے بولے: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ صبح تک آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس رکھا رہا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا اور معاہدے کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ (اس قبیلے کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کیے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے، ان سب نے اس میں سے کھایا۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کچھ ایسا ہی کہا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1332]
