عربی (اصل)
1330 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ، فَقُلْنَ: مَا مَعَنَا إِلاَّ الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيفُ هذَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: أَنَا فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ: أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: مَا عِنْدَنَا إِلاَّ قُوتُ صِبْيَانِي فَقَالَ: هَيِّء طَعَامَكِ، وَأَصْبِحِي سِرَاجَكِ، وَنَوِّمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا عَشَاءً فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا، وَأَصْبَحَتْ سِرَاجَهَا، وَنَوَّمَتْ صِبْيَانَهَا؛ ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَّهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا، فَأَطْفَأَتْهُ، فَجَعَلاَ يُرِيَانِهِ أَنَّهُمَا يَأْكُلاَنِ فَبَاتَا طَاوِيَيْنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِكَ اللهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فِعَالِكُمَا فَأَنْزَلَ اللهُ(وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأَولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ)
انگریزی ترجمہ
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) said: The Prophet (peace be upon him) said: "Facilitate things for people and do not make things difficult. Give glad tidings and do not drive people away."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب (خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں ازواجِ مطہرات کے یہاں بھیجا (تاکہ ان کو کھانا کھلا دیں) ازواج نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس پر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ان کی کون مہمانی کرے گا؟“ایک انصاری صحابی بولے میں کروں گا۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے مہمان کی خاطر تواضع کر، بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلا لو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلا دو۔ بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلا دیا اور اپنے بچوں کو (بھوکا) سلا دیا۔ پھر وہ دکھا تو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں لیکن ان دونوں نے (اپنے بچوں سمیت رات) فاقہ سے گزار دی، صبح کے وقت جب وہ صحابی آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں آئے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑا (یہ فرمایا کہ اسے) پسند کیا“اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾[سورة الحشر: 9]”اور وہ (انصار) ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر (دوسرے غریب صحابہ کو) اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا، سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1330]
