عربی (اصل)
1261 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَمِائَةِ رَاكِبٍ، أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ فَأَلْقَى لَنَا الْبحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ، حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ، فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ، وَأَخَذَ رَجُلاً وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَه قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ
انگریزی ترجمہ
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (peace be upon him) sent us — three hundred riders — under the command of Abu Ubaydah ibn al-Jarrah to intercept a Quraysh caravan. We camped on the coast for half a month and were struck by severe hunger until we ate the khabt (leaves of desert trees). That army was called the Army of al-Khabt. Then the sea cast up a creature called al-anbar (a whale). We ate from it for half a month and oiled ourselves with its fat until our bodies recovered. Abu Ubaydah took one of its ribs and set it up, then took the tallest man among them, and a man riding a camel passed underneath it. Jabir said: A man from the group slaughtered three camels, then slaughtered three more, then slaughtered three more — then Abu Ubaydah forbade him.
اردو ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارا امیر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا تاکہ ہم قریش کے قافلۂ تجارت کی تلاش میں رہیں۔ ساحلِ سمندر پر ہم پندرہ دن تک پڑاؤ ڈالے رہے، ہمیں (اس سفر میں) بڑی سخت بھوک اور فاقے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم نے ببول کے پتے کھا کر وقت گزارا، اسی لیے اس فوج کا لقب پتوں کی فوج ہو گیا۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک مچھلی جیسا جانور ساحل پر پھینک دیا، اس کا نام«الْعَنْبَرُ»”عنبر“تھا، ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر (اپنے جسموں پر) ملا، اس سے ہمارے بدن کی طاقت و قوت پھر لوٹ آئی۔ بعد میں سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی نکال کر کھڑی کروائی اور جو لشکر میں سب سے لمبے آدمی تھے، انہیں اونٹ پر سوار کرایا، وہ اس کے نیچے سے نکل گیا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کیے تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا کیونکہ اگر سب اونٹ ذبح کر دیے جاتے تو سفر کیسے ہوتا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1261]
