عربی (اصل)
1198 صحيح حديث أَبِي مُوسى وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَبُو مُوسى: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَكِلاَهُمَا سَأَلَ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسى أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ فَقَالَ: لَنْ أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، وَلكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسى أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ إلَى الْيَمَنِ ثُمَّ اتَّبَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، قَالَ: انْزِلْ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ قَالَ: مَا هذَا قَالَ: كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ قَالَ: اجْلِسْ قَالَ: لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَضَاءُ اللهِ وَرَسُولِهِ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي
انگریزی ترجمہ
Abu Musa said: I came to the Prophet (peace be upon him) with two men from the Ash'aris, one on my right and the other on my left, while the Messenger of Allah (peace be upon him) was using a siwak. Both of them asked (for positions of authority). He said: "O Abu Musa, or O Abdullah ibn Qays." I said: "By the One who sent you with the truth, they did not reveal to me what was in their minds, and I did not know that they were seeking positions." It is as if I can see his siwak under his lip, drawn back, and he said: "We will never - or we do not - appoint to our work someone who desires it. But go, O Abu Musa - or O Abdullah ibn Qays - to Yemen." Then Mu'adh ibn Jabal followed him. When he arrived, Abu Musa spread a cushion for him and said: "Dismount." There was a man beside him who was bound. Mu'adh asked: "Who is this?" He said: "He was a Jew who embraced Islam and then reverted to Judaism." Mu'adh said: "I will not sit down until he is killed - the decree of Allah and His Messenger." He said this three times, then he ordered it and the man was killed. Then they discussed night prayer. One of them (Mu'adh) said: "As for me, I sleep and I pray, and I hope for the same reward in my sleep as I hope for in my prayer."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا، میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے۔ ایک میرے داہنی طرف تھا اور دوسرا بائیں طرف۔ اس وقت نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلممسواک کر رہے تھے۔ دونوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے خدمت کی درخواست کی، یعنی حکومت اور عہدے کی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابو موسیٰ یا عبداللہ بن قیس!“(راوی کو شک ہے)۔ میں نے اسی وقت عرض کیا: یا رسول اللہ! اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، انہوں نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہیں کہی تھی اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں شخص خدمت چاہتے ہیں۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جیسے میں اس وقت آپصلی اللہ علیہ وسلمکی مسواک کو دیکھ رہا ہوں وہ آپ کے ہونٹ کے نیچے اٹھی ہوئی تھی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو کوئی ہم سے خدمت کی درخواست کرتا ہے ہم اس کو خدمت نہیں دیتے، لیکن ابو موسیٰ یا عبداللہ بن قیس! تو یمن کی حکومت پر جا۔“(خیر ابو موسیٰ روانہ ہوئے) اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے پیچھے روانہ کیا۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے بیٹھنے کے لیے گدّا بچھوایا اور کہنے لگے: سواری سے اتریے اور گدّے پر بیٹھیے۔ اس وقت ان کے پاس ایک شخص تھا جس کی مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: یہ یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا اور اب پھر یہودی ہو گیا ہے۔ اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سواری سے اتر کر بیٹھیے تو۔ انہوں نے کہا: میں نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم کے موافق یہ قتل نہ کیا جائے گا، تین بار یہی کہا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور وہ قتل کیا گیا۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیٹھے۔ اب دونوں نے رات کی عبادت (تہجد گزاری) کا تذکرہ کیا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور مجھے امید ہے کہ سونے میں بھی مجھ کو وہی ثواب ملے گا جو نماز پڑھنے اور عبادت کرنے میں ملتا ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1198]
