عربی (اصل)
1116 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبائِكَ، قَالَ: وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالَ: لاَ أُرَاهُ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ
انگریزی ترجمہ
A'ishah (may Allah be pleased with her) said: Hind bint 'Utbah came and said: "O Messenger of Allah, there was no household on the face of the earth whose humiliation I desired more than your household. But today there is no household on the face of the earth whose honor I desire more than your household." He said: "And more will come, by the One in Whose Hand is my soul." She said: "O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a tight-fisted man. Is there any blame on me if I feed our family from what he has?" He said: "No, but only in a reasonable manner."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں (اسلام لانے کے بعد) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپصلی اللہ علیہ وسلمکے گھرانے کی ذلت سے زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی، لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپصلی اللہ علیہ وسلمکے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس میں ابھی اور ترقی ہوگی، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔“پھر ہند رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! ابو سفیان رضی اللہ عنہ بہت بخیل ہیں، تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر) بال بچوں کو کھلا پلا دیا کروں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1116]
