عربی (اصل)
1089 صحيح حديث يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رضي الله عنه، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تقْضَمُهَا قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ: كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Two phrases are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to the Most Merciful: 'SubhanAllahi wa bihamdihi, SubhanAllahil-Azim' (Glory and praise be to Allah, Glory be to Allah the Almighty)."
اردو ترجمہ
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ جیشِ عسرہ (غزوۂ تبوک) میں گیا تھا، یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد نیک عمل تھا۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا۔ وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھنچے چلے آئے اور گر گئے۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پہنچا۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے دانت (ٹوٹنے کا) کوئی قصاص نہیں دلوایا، بلکہ فرمایا:”کیا وہ اپنی انگلی تمہارے منہ میں چبانے کے لیے چھوڑ دیتا؟“راوی نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یوں بھی فرمایا:”جس طرح اونٹ چبا لیا کرتا ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1089]
