عربی (اصل)
أنامُعْتَمِرٌ، عَنْعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْأَبِي نَضْرَةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعَصْرِ بِنَهَارٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا إِلَى أَنْ غَابَتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلا حَدَّثَنَا بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، وَقَالَ حِينَ ذَهَبَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ:" إِنَّمَا مَضَى مِنْ دُنْيَاكُمْ فَمَا بَقِيَ مِنْهَا كَمَا مَضَى مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فَمَا بَقِيَ مِنْهُ".
انگریزی ترجمہ
Al-Miqdam ibn Ma'dikarib (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "No one has ever eaten food better than what he earns from the work of his own hands. And indeed, the Prophet of Allah, Dawud (peace be upon him), used to eat from the work of his own hands."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں نماز عصر دن کے وقت پڑھائی، پھر ہمیں خطبہ دیا، یہاں تک کہ سورج غائب ہو گیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کوئی ایسی چیز نہ چھوڑی جو قیامت تک ہونی تھی، مگر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے وہ ہمیں بیان کر دی، اسے یاد کر لیا جس نے یاد کیا اور اسے بھلا دیا جس نے بھلا دیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس وقت کہ جب سورج غروب ہونے کے قریب تھا، فرمایا:”اور تمہاری دنیا جتنی گزر چکی ہے اور جتنی باقی ہے وہ تمہارے اسی دن کی طرح ہے کہ وہ جتنا گزر چکا ہے اور جتنا باقی ہے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 96]
