عربی (اصل)
حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، أَنَّ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيُّ قَالَ لَهُ إِنِّيْ رَأَیْتُكَ تَدْخُلُ عَلَی هٰؤُلَاءِ الْأُمَرَاءِ وَتَغْشَاهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا تُحَاضِرُهُمْ بِهِ فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:((إِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنَ الْخَیْرِ مَا یَعْلَمُ مَبْلَغَهَا یَکْتُبُ اللّٰهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَی یَوْمٍ یَلْقَاهُ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنَ الشَّرِّ مَا یَعْلَمُ مَبْلَغَهَا یَکْتُبُ اللّٰهُ بِهَا عَلَیْهِ سَخْطَهُ إِلَی یَوْمٍ یَلْقَاهُ((فَکَانَ عَلْقَمَةُ یَقُوْلُ رُبَّ حَدِیْثٍ قَدْ حَالَ بَیْنِيْ وَبَیْنَهُ مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلَالٍ
انگریزی ترجمہ
Asma bint Abi Bakr (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) said to her: "Spend, and do not hoard, or Allah will withhold from you. Do not count [your wealth], or Allah will count against you."
اردو ترجمہ
علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں کہ بے شک سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یقیناً میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو ان امراء کے پاس داخل ہوتے ہو اور انہیں ڈھانپتے ہو سو دیکھو کہ کس چیز کے ساتھ تم ان کے پاس حاضر ہوتے ہو، بے شک میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”یقیناً آدمی خیر کا کوئی ایسا کلمہ بولتا ہے کہ وہ اس کی انتہا کو نہیں جانتا، اللہ اس وجہ سے اس کے لیے اس دن تک جب اس سے ملاقات کرے گا اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور بے شک آدمی کوئی ایسی بری بات کرتا ہے کہ وہ اس کی انتہا کو نہیں جانتا تو اس وجہ سے اللہ اس کے لیے، اس دن تک جب اس سے ملاقات کرے گا، اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔“علقمہ کہا کرتے تھے کہ کتنی ہی حدیثیں جو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے سنیں وہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہو گئیں۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 88]
