عربی (اصل)
عَنْ عَنْعِيسَى بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِيسَهْلُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْسَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ، قَالَ: قَالَ أَبِيلأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: يَا خَالُ،" إِنَّ النَّاسَ لَيْسُوا بِالنَّاسِ الَّذِي كُنْتَ تَعْهَدُ، إِنَّمَا هُمُ الذِّئَابُ عَلَيْهِمُ الثِّيَابُ فَاحْذَرْهُمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ ذَلِكَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي مِنْهُمْ هُنَيْهَةً أَنِّي أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ بِأُذُنَيْكَ".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The gates of Paradise are open on Monday and Thursday. Allah forgives every Muslim servant who does not associate anything with Him, except for a person between whom and his brother there is enmity. It is said: 'Delay these two until they reconcile. Delay these two until they reconcile.'"
اردو ترجمہ
سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف نے کہا کہ میرے باپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ماموں! بے شک لوگ، اب وہ لوگ نہیں ہیں، جن میں آپ وقت گزارتے آئے تھے، اب تو محض وہ بھیڑئیے ہیں، جن پر لباس ہیں، سو ان سے بچ کر رہیے۔ فرمایا کہ سنو، اللہ کی قسم! البتہ اگر تو نے یہ کہا ہے تو یقیناً مجھے ان کی طرف سے تھوڑی دیر میں اس بات نے شک میں ڈالا کہ میں انہیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف سے حدیث بیان کر رہا ہوں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ کیا تو نے اسے اپنے کانوں سے سنا ہے؟[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 249]
