عربی (اصل)
ناهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ:" فِيهَا غَرَامَةٌ مِثلُهَا، وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْمُرَاحُ، فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ إِلا فِيمَا أَوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ".
انگریزی ترجمہ
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Every intoxicant is forbidden. Whoever drinks wine in this world, he will not drink it in the Hereafter."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! میدان کے بکریوں کے باڑے کے بارے میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکی کیا رائے ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ان میں ان کی مثل چٹی (تاوان) ہے اور سزا کے کوڑے ہیں اور جانوروں میں سے کسی چیز میں ہاتھ نہیں کٹتا سوائے اس کے جسے باڑہ جگہ دے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کٹتا ہے اور پھلوں میں سے کسی چیز میں (ہاتھ کٹنا) نہیں مگر اس میں جسے کھلیان (پھلوں کو اکٹھا کرنے کی جگہ) جگہ دے، جس نے کھلیان سے لیا اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ گیا تو اس میں ہاتھ کٹنا ہے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 157]
