عربی (اصل)
عَنْشُعْبَةَ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْعُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ،فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُسْقِطَتْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: كَيْفَ نَدِي مَنْ لا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ وَلا شَرِبَ وَلا أَكَلَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
انگریزی ترجمہ
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Three things follow the deceased [to his grave]: his family, his wealth, and his deeds. Two of them return and one remains. His family and wealth return, and his deeds remain."
اردو ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک دو عورتیں جو بنو ہزیل کے ایک آدمی کے ماتحت (بیویاں تھیں) ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کا ستون مارا تو اس کا حمل ساقط کر دیا گیا، وہ جھگڑا لے کر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آگئے اور کہا: ہم اس کی دیت کیسے دیں جو نہ چیخا نہ رویا، نہ پیا اور نہ کھایا؟ نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا بدویوں کی سجع کی طرح، سجع کلامی ہے؟“تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک غلام آزاد کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے عورت کے عصبہ رشتہ داروں پر (مقرر) کیا۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 150]
