It is narrated that Hadrat Ibn Dailami (may Allah be well pleased with him) said: "I was confused about this Divine Decree (Qadar), and I was afraid lest that adversely affect my religion and my affairs. So I went to Hadrat Ubayy bin Ka'b and said: 'O Abu Mundhir! I am confused about the Divine Decree, and I fear for my religion and my affairs, so tell me something about that through which Allah may benefit me.' He said: 'If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of his earth, He would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell. And it will not harm you to go to my brother, Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, and ask him (about this).' So I went to Hadrat 'Abdullah and asked him , and he said something similar to what Hadrat Ubayy had said, and he told me: 'It will not harm you to go to Hadrat Hudhaifah.' So I went to Hadrat Hudhaifah and asked him, and he said something similar to what they had said. And he told me: 'Go to Hadrat Zaid bin Thabit and ask him.' So I went to Hadrat Zaid bun Thabit and asked him, and he said: 'I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of His earth, he would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell
اردو ترجمہ
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے، اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں یہ شبہات میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دیں، چنانچہ میں ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا، اور عرض کیا: ابوالمنذر! میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات وارد ہوئے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا دین اور میرا معاملہ خراب نہ ہو جائے، لہٰذا آپ اس سلسلہ میں مجھ سے کچھ بیان کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کچھ فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو ( یا کہا: احد پہاڑ کے برابر مال ہو ) اور تم اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو، تو یہ اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پہ ایمان نہ لاؤ، تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تمہیں نہیں پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا ۱؎، اور اگر تم اس اعتقاد کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے، اور کوئی حرج نہیں کہ تم میرے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں: میں عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا تھا، اور مجھ سے کہا: کوئی مضائقہ نہیں کہ تم حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ان دونوں ( ابی بن کعب اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بتایا تھا، اور انہوں نے کہا: تم زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے بھی پوچھ لو۔ چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد کے برابر سونا یا احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اس وقت تک تمہاری جانب سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پہ کلی طور پر ایمان نہ لاؤ، اور تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا ہے تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تم سے چوک گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس عقیدہ کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے ۲؎۔
It is narrated that Hadrat Ibn Dailami (may Allah be well pleased with him) said: "I was confused about this Divine Decree (Qadar), and I was afraid lest that adversely affect my religion and my affairs. So I went to Hadrat Ubayy bin Ka'b and said: 'O Abu Mundhir! I am confused about the Divine Decree, and I fear for my religion and my affairs, so tell me something about that through which Allah may benefit me.' He said: 'If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of his earth, He would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell. And it will not harm you to go to my brother, Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, and ask him (about this).' So I went to Hadrat 'Abdullah and asked him , and he said something similar to what Hadrat Ubayy had said, and he told me: 'It will not harm you to go to Hadrat Hudhaifah.' So I went to Hadrat Hudhaifah and asked him, and he said something similar to what they had said. And he told me: 'Go to Hadrat Zaid bin Thabit and ask him.' So I went to Hadrat Zaid bun Thabit and asked him, and he said: 'I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of His earth, he would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے، اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں یہ شبہات میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دیں، چنانچہ میں ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا، اور عرض کیا: ابوالمنذر! میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات وارد ہوئے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا دین اور میرا معاملہ خراب نہ ہو جائے، لہٰذا آپ اس سلسلہ میں مجھ سے کچھ بیان کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کچھ فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو ( یا کہا: احد پہاڑ کے برابر مال ہو ) اور تم اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو، تو یہ اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پہ ایمان نہ لاؤ، تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تمہیں نہیں پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا ۱؎، اور اگر تم اس اعتقاد کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے، اور کوئی حرج نہیں کہ تم میرے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں: میں عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا تھا، اور مجھ سے کہا: کوئی مضائقہ نہیں کہ تم حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ان دونوں ( ابی بن کعب اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بتایا تھا، اور انہوں نے کہا: تم زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے بھی پوچھ لو۔ چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد کے برابر سونا یا احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اس وقت تک تمہاری جانب سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پہ کلی طور پر ایمان نہ لاؤ، اور تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا ہے تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تم سے چوک گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس عقیدہ کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے ۲؎۔