It is narrated from Hadrat Muhammed bin 'Abdullah bin Zaid that his father said (may Allah be well pleased with him) that:The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was thinking of a horn, and he commanded that a bell be made and it was done. Then 'Abdullah bin Zaid had a dream. He said: "I saw a man wearing two green garments, carrying a bell. I said to him, 'O slave of Allah, will you sell the bell?' He said; 'What will you do with it?' I said, 'I will call (the people) to prayer.' He said, 'Shall I not tell you of something better than that?' I said, 'What is it?' he said, 'Say: Allahu Akbar Allahu Akbar, Allahu Akbar Allahu Akbar; Ash-hadu an la ilaha illallah, Ash-hadu an la ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)an Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)an Rasulullah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'alas-salah; Hayya 'alal-falah, Hayya 'alal-falah; Allahu Akbar Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is The Most Great, Allah is The Most Great; Allah is The Most Great, Allah is The Most Great; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammed is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I bear witness that Muhammed is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him); Come to the Prayer, Come to the Prayer; Come to the prosperity, Come to the prosperity; Allah is the Most great, Allah is the Most Great; None has the right to be worshipped but Allah)." 'Abdullah bin Zaid went out and came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and told him what he had seen. He said, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I saw a man wearing two green garments carrying a bell," and he told him the story. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said, "Your companion has had a dream. Go out with Hadrat Bilal to the mosque and teach it to him, for he has a louder voice than you." I (Hadrat 'Abdullah) went out with Hadrat Bilal to the mosque, and I started teaching him the words and he was calling them out. 'Umar Al-Khattab heard the voice and came out saying, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! By Allah, I saw the same (dream) as him." (Hasan)Abu 'Ubaid said: "Hadrat Abu Bakr Al-Hakami told me that 'Abdullah bin Zaid Al-Ansari said concerning that: 'I praise Allah, the Possessor of majesty and honor, A great deal of praise for the Adhan. Since the news of it came to me from Allah, So due to it, I was honored by the information. During the three nights. Each of which increased me in honor
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن زید (عبداللہ بن زید بن عبدربہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بگل بجوانے کا ارادہ کیا تھا ( تاکہ لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں، لیکن یہود سے مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا ) ، پھر ناقوس تیار کئے جانے کا حکم دیا، وہ تراشا گیا، ( لیکن اسے بھی نصاری سے مشابہت کی وجہ سے چھوڑ دیا ) ، اسی اثناء میں عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب دکھایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دو سبز کپڑے پہنے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھ ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو یہ ناقوس بیچے گا؟ اس شخص نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: میں اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے پوچھا: وہ بہتر چیز کیا ہے؟ اس نے کہا: تم یہ کلمات کہو «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح. الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن زید نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر پورا خواب بیان کیا: عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کو دو سبز کپڑے پہنے دیکھا، جو ناقوس لیے ہوئے تھا، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا: تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے ، عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تم حضرت بلال کے ساتھ مسجد جاؤ، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتے جاؤ، اور وہ اذان دیتے جائیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند تر ہے ، عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مسجد گیا، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ انہیں بلند آواز سے پکارتے گئے، عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جوں ہی یہ آواز سنی فوراً گھر سے نکلے، اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں: مجھے حضرت ابوبکر حکمی نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بارے میں چند اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: میں بزرگ و برتر اللہ کی خوب خوب تعریف کرتا ہوں، جس نے اذان سکھائی، جب اللہ کی جانب سے میرے پاس اذان کی خوشخبری دینے والا ( فرشتہ ) آیا، وہ خوشخبری دینے والا میرے نزدیک کیا ہی باعزت تھا، مسلسل تین رات تک میرے پاس آتا رہا، جب بھی وہ میرے پاس آیا اس نے میری عزت بڑھائی ۱؎۔
It is narrated from Hadrat Muhammed bin 'Abdullah bin Zaid that his father said (may Allah be well pleased with him) that:The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was thinking of a horn, and he commanded that a bell be made and it was done. Then 'Abdullah bin Zaid had a dream. He said: "I saw a man wearing two green garments, carrying a bell. I said to him, 'O slave of Allah, will you sell the bell?' He said; 'What will you do with it?' I said, 'I will call (the people) to prayer.' He said, 'Shall I not tell you of something better than that?' I said, 'What is it?' he said, 'Say: Allahu Akbar Allahu Akbar, Allahu Akbar Allahu Akbar; Ash-hadu an la ilaha illallah, Ash-hadu an la ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)an Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)an Rasulullah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'alas-salah; Hayya 'alal-falah, Hayya 'alal-falah; Allahu Akbar Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is The Most Great, Allah is The Most Great; Allah is The Most Great, Allah is The Most Great; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammed is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I bear witness that Muhammed is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him); Come to the Prayer, Come to the Prayer; Come to the prosperity, Come to the prosperity; Allah is the Most great, Allah is the Most Great; None has the right to be worshipped but Allah)." 'Abdullah bin Zaid went out and came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and told him what he had seen. He said, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I saw a man wearing two green garments carrying a bell," and he told him the story. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said, "Your companion has had a dream. Go out with Hadrat Bilal to the mosque and teach it to him, for he has a louder voice than you." I (Hadrat 'Abdullah) went out with Hadrat Bilal to the mosque, and I started teaching him the words and he was calling them out. 'Umar Al-Khattab heard the voice and came out saying, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! By Allah, I saw the same (dream) as him." (Hasan)Abu 'Ubaid said: "Hadrat Abu Bakr Al-Hakami told me that 'Abdullah bin Zaid Al-Ansari said concerning that: 'I praise Allah, the Possessor of majesty and honor, A great deal of praise for the Adhan. Since the news of it came to me from Allah, So due to it, I was honored by the information. During the three nights. Each of which increased me in honor
حضرت عبداللہ بن زید (عبداللہ بن زید بن عبدربہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بگل بجوانے کا ارادہ کیا تھا ( تاکہ لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں، لیکن یہود سے مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا ) ، پھر ناقوس تیار کئے جانے کا حکم دیا، وہ تراشا گیا، ( لیکن اسے بھی نصاری سے مشابہت کی وجہ سے چھوڑ دیا ) ، اسی اثناء میں عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب دکھایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دو سبز کپڑے پہنے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھ ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو یہ ناقوس بیچے گا؟ اس شخص نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: میں اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے پوچھا: وہ بہتر چیز کیا ہے؟ اس نے کہا: تم یہ کلمات کہو «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح. الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن زید نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر پورا خواب بیان کیا: عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کو دو سبز کپڑے پہنے دیکھا، جو ناقوس لیے ہوئے تھا، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا: تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے ، عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تم حضرت بلال کے ساتھ مسجد جاؤ، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتے جاؤ، اور وہ اذان دیتے جائیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند تر ہے ، عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مسجد گیا، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ انہیں بلند آواز سے پکارتے گئے، عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جوں ہی یہ آواز سنی فوراً گھر سے نکلے، اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں: مجھے حضرت ابوبکر حکمی نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بارے میں چند اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: میں بزرگ و برتر اللہ کی خوب خوب تعریف کرتا ہوں، جس نے اذان سکھائی، جب اللہ کی جانب سے میرے پاس اذان کی خوشخبری دینے والا ( فرشتہ ) آیا، وہ خوشخبری دینے والا میرے نزدیک کیا ہی باعزت تھا، مسلسل تین رات تک میرے پاس آتا رہا، جب بھی وہ میرے پاس آیا اس نے میری عزت بڑھائی ۱؎۔