عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ، يُصِيبُهُ الْمَنِيُّ أَنَغْسِلُهُ أَوْ نَغْسِلُ الثَّوْبَ كُلَّهُ قَالَ سُلَيْمَانُ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصِيبُ ثَوْبَهُ فَيَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فِي ثَوْبِهِ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَنَا أَرَى أَثَرَ الْغُسْلِ فِيهِ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat 'Amr bin Maimun (may Allah be well pleased with him) said: "I asked Sulaiman (upon him be peace) bin Yasar about a garment which gets semen on it. 'Should I wash it off or wash the entire garment?' Sulaiman said: Hadrat 'Aishah said: "Semen used to get on the garment of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he would wash it off his garment, then he would go out to pray wearing that garment, and I could see the marks left on it by washing
اردو ترجمہ
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔
