عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنَ الْكُفَّارِ فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً . فَيُغْمَسُ فِيهَا ثُمَّ يُقَالُ لَهُ أَىْ فُلاَنُ هَلْ أَصَابَكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ مَا أَصَابَنِي نَعِيمٌ قَطُّ . وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلاَءً . فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ . فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً فَيُقَالُ لَهُ أَىْ فُلاَنُ هَلْ أَصَابَكَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلاَءٌ فَيَقُولُ مَا أَصَابَنِي قَطُّ ضُرٌّ وَلاَ بَلاَءٌ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated:“On the Day of Resurrection the disbeliever who lived the most luxurious will be brought, and it will be said: ‘Dip him once in Hell.’ So he will be dipped in it, then it will be said to him: ‘O so- and-so, have you every enjoyed any pleasure?’ He will say: ‘No, I have never enjoyed any pleasure.’ Then the believer who suffered the most hardship and trouble will be brought and it will be said: ‘Dip him once in Paradise.’ So he will be dipped in it and it will be said to him: ‘O so-and-so, have you ever suffered any hardship or trouble?’ He will say: ‘I have never suffered any hardship or trouble.’”
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن کافروں میں سے وہ شخص لایا جائے گا، جس نے دنیا میں بہت عیش کیا ہو گا، اور کہا جائے گا: اس کو جہنم میں ایک غوطہٰ دو، اس کو ایک غوطہٰ جہنم میں دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے فلاں! کیا تم نے کبھی راحت بھی دیکھی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور مومنوں میں سے ایک ایسے مومن کو لایا جائے گا، جو سخت تکلیف اور مصیبت میں رہا ہو گا، اس کو جنت کا ایک غوطہٰ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی دیکھی؟ وہ کہے گا: مجھے کبھی بھی کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچی ۔
