عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلاَمُ فَمَا الاِسْتِئْنَاسُ قَالَ " يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً وَتَكْبِيرَةً وَتَحْمِيدَةً وَيَتَنَحْنَحُ وَيُؤْذِنُ أَهْلَ الْبَيْتِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Abu Ayyub Ansari (may Allah be well pleased with him) said: "We said: 'O the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), (we know) this (greeting of) Salam, but what does seeking permission to enter mean?' He said: 'It means a man saying SubhanAllah, and Allahu Akbar and Al Hamdulillah, and clearing his throat, announcing his arrival to the people in the house
اردو ترجمہ
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سلام تو ہمیں معلوم ہے، لیکن «استئذان» کیا ہے؟ ( یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں ) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «استئذان» یہ ہے کہ آدمی تسبیح، تکبیر اور تحمید ( یعنی «سبحان الله، الله أكبر، الحمد لله» کہہ کر یا کھنکار کر ) سے گھر والوں کو خبردار کرے ۔
