عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً}. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ " لاَ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ " . فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ }.
انگریزی ترجمہ
It was narrated that Hadrat 'Ali said:“When the following was revealed: “And Hajj (pilgrimage to Makkah) to the House (Ka’bah) is a duty that mankind owes to Allah, for whoever can bear the way.” [3:97] They asked: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), is Hajj every year?’ He remained silent. They asked: ‘Is it every year?’ He said: ‘No. If I had said yes, it would have become obligatory.’ Then the following was revealed: “O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble.’” [5:]
اردو ترجمہ
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں ( سورۃ آل عمران: ۹۷ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے ۱؎؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو ( ہر سال ) واجب ہو جاتا ، اس پر آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» اے ایمان والو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی ( سورۃ المائدہ: ۱۰۱ ) نازل ہوئی ۲؎۔
