عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الأَمِينُ، - أَمَّا هُوَ إِلَىَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ - عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً فَقَالَ " أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ " . فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلاَمَ نُبَايِعُكَ فَقَالَ " أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا - وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً - وَلاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا " . قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ فَلاَ يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ .
انگریزی ترجمہ
‘Awf bin Malik Al-Ashja’i said:“We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) – seven or eight or nine of us – and he said: ‘Will you not give pledge to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?’ So we stretched forth our hands and someone said: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), we have already given you our pledge. On what basis shall we give this pledge?’ He said: ‘(On the basis that) you will worship Allah and not associate anything with Him, you will establish the five daily prayers, you will listen and obey’ – then he spoke some words under his breath – ‘and you will not ask the people for anything.’ He said: ‘I saw some of that group. If he dropped his whip he would not ask anyone to pick it up for him.’”
اردو ترجمہ
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ( بیعت کرنے کے بعد ) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو ، راوی کا بیان ہے کہ ( اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۱؎۔
