عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلاَّ يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَىْءٌ مِنَ الْكِبْرِ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Abu Umamah (may Allah be well pleased with him) said: "The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) walked on a very hot day towards Baqi' Al-Gharqad (graveyard of Al-Madinah), and the people were walking behind him. When he heard the sound of their shoes, it affected his soul so he sat down until he made them go ahead of him, lest that make him feel too proud
اردو ترجمہ
حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی کے دن میں بقیع غرقد نامی مقبرہ سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جوتوں کی چاپ سنی تو آپ کے دل میں خیال آیا، آپ بیٹھ گئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے سے آگے کر لیا کہ کہیں آپ کے دل میں کچھ تکبر نہ آ جائے۔
