عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ، أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلاَمٌ، أَرْمِي نَخْلَنَا - أَوْ قَالَ نَخْلَ الأَنْصَارِ - فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا غُلاَمُ - وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ فَقَالَ يَا بُنَىَّ - لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ " . قَالَ قُلْتُ آكُلُ . قَالَ " فَلاَ تَرْمِي النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا " . قَالَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Rafi' bin 'Amr Al-Ghifari (may Allah be well pleased with him) said: "When I was a boy, I used to throw stones at our date-palm trees"[1] - or he said: "the date-palm trees of the Ansar." I was brought to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and he said: 'O boy' - (one of the narrators) Ibn Kasib said: He said: 'O my son - why are you throwing stones at the date-palm trees?' I said: 'So I can eat.' He said: 'Do not throw stones at the date-palm trees. Eat from what falls to the ground from them.' Then he patted me on the head and said: 'O Allah give him enough to eat.'”
اردو ترجمہ
حضرت رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لڑکے! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
