عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Qais bin Abu Gharazah (may Allah be well pleased with him) said: "At the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) we used to be called brokers, but the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) passed by us and called by a name that was better than that. He said: 'O merchants, selling involves (false) oaths and idle talk, so mix some charity with it
اردو ترجمہ
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں «سماسرہ» ( دلال ) کہے جاتے تھے، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا، تو آپ نے ہمارا ایک ایسا نام رکھا جو اس سے اچھا تھا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسمیں اور لغو باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، تو تم اس میں صدقہ ملا دیا کرو ۱؎۔
