عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالْجِعِرَّانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلاَلٍ فَقَالَ رَجُلٌ اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ . فَقَالَ " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ " . فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ - أَوْ أُصَيْحَابٍ - لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abu Hadrat Zubair that Hadrat Jabir bin Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with him) said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was in Ji'ranah and he was distributing gold nuggets and spoils of war which were in Hadrat Bilal's lap. A man said: 'Do justice, O Muhammed!' He said: 'Woe to you! Who will do justice after me if I do not do justice?' 'Umar submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Let me strike the neck of this hypocrite!' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'This man has some companions who recite the Qur'an but it does not go any deeper than their collarbones. They will pass through Islam like an arrow passing through its target
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت ( لوگوں میں ) تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجئیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیرا برا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟ ، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۱؎۔
