عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ قَدْ أَتَانِيهِ اللَّهُ . فَمَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ " أَدْرَكَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا " . ثُمَّ مَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " سَبَقَ هَؤُلاَءِ خَيْرٌ كَثِيرٌ " . قَالَ فَالْتَفَتَ فَرَأَى رَجُلاً يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ فَقَالَ " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ يَقُولُ حَدِيثٌ جَيِّدٌ وَرَجُلٌ ثِقَةٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Bashir bin Khasasiyyah (may Allah be well pleased with him) said:“While I was walking with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) he said: ‘O son of Khasasiyyah, why are you angry with Allah when you are walking with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?’ I said: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I am not angry with Allah at all. Allah has bestowed all good on me.’ Then he passed by the graves of the Muslims and said: ‘They have caught up with a great deal of good.’ Then he passed by the graves of the idolaters and said: ‘They died before a great deal of good came to them.’ Then he turned and saw a man walking between the graves in his shoes and he said: ‘O you with the shoes, take them off.’” Muhammad bin Bashar narrated from Abdur-Rahman bin Mahdi that he said: Abdullah bin Uthman used to say (about this hadith): "A good hadith and a reliable narrator
اردو ترجمہ
حضرت بشیر ابن خصاصیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: اے ابن خصاصیہ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے ( حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے ؟ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے۔ ( اسی اثناء میں ) آپ مسلمانوں کے روضۂ اقدسوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: انہیں بہت بھلائی مل گئی ۔ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے ۔ اچانک آپ کی نگاہ ایسے آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے جوتوں والے! انہیں اتار دے ۔ امام ابن ماجہ نے اپنے استاذ محمد بن بشار سے بیان کیا کہ ابن مہدی کہتے ہیں، عبداللہ بن حضرت عثمان کہا کرتے تھے یہ حدیث عمدہ ہے اور اس کا راوی خالد بن سمیر ثقہ ہے۔
