عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلاَمَهُ سَبْعَةٌ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبُو بَكْرٍ وَعَمَّارٌ وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ وَصُهَيْبٌ وَبِلاَلٌ وَالْمِقْدَادُ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا إِلاَّ بِلاَلاً فَإِنَّهُ قَدْ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَخَذُوهُ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ أَحَدٌ أَحَدٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat ' Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) said: "The first people to declare their Islam publicly were seven: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), Hadrat Abu Bakr, 'Ammar and his mother Sumayyah, Suhaib, Hadrat Bilal and Hadrat Miqdad. With regard to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), Allah protected him through his paternal uncle Abu Talib. With regard to Hadrat Abu Bakr, Allah protected him through his people. As for the rest, the idolators seized them and made them wear coats of chain-mail and exposed them to the intense heat of the sun. There was none of them who did not do what they wanted them to do, except for Hadrat Bilal. He did not care what happened to him for the sake of Allah, and his people did not care what happened to him. Then they gave him to the children who took him around in the streets of Makkah while he was saying, 'Ahad, Ahad (One, One)
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے پہل جن لوگوں نے اپنا اسلام ظاہر کیا وہ سات افراد تھے: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، حضرت بلال اور مقداد ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) ، رہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایذا رسانیوں سے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ آپ کو بچایا، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی قوم کے سبب محفوظ رکھا، رہے باقی لوگ تو ان کو مشرکین نے پکڑا اور لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، چنانچہ ان میں سے ہر ایک سے مشرکین نے جو کہلوایا بظاہر کہہ دیا، سوائے حضرت بلال کے، اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی جان کو حقیر سمجھا، اور ان کی قوم نے بھی ان کو حقیر جانا، چنانچہ انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکڑ کر بچوں کے حوالہ کر دیا، وہ ان کو مکہ کی گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور وہ «اَحَد، اَحَد» کہتے ( یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے ) ۱؎۔
