عربی (اصل)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ " . حَتَّى اشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) said:“The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) led his Companions in prayer one day. When he had finished prayer he turned to face the people and said: ‘What is wrong with some people that they lift their gaze to the heavens?’ He spoke severely concerning that: ‘They should certainly abstain from that or Allah will snatch away their sight.’”
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی نگاہیں ( بحالت نماز ) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟ ، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تک فرما دیا: لوگ اس سے ضرور باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا ۔
