عربی (اصل)
حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثناحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْسَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْعَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنِالْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلاجٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِالْقَدُومِ، فَوَثَبُوا عَلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ شَاسِعٍ عَنْ أَهْلِهَا وَأَنَّهَا تُرِيدُ التَّحَوُّلَ إِلَيْهِمْ فَأَذِنَ لَهَا، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجُرَاتِ، أَوْ قَالَتْ: جَاوَزْتُ الْحُجُرَاتِ دَعَانِي، أَوْ قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ فَدَعَانِي، فَقَالَ لِي:" اعْتَدِّي فِي بَيْتِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ"، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي، فَحَدَّثْتُهُ.
انگریزی ترجمہ
Al-Furay'ah bint Malik (may Allah be pleased with her) narrated that her husband went out in pursuit of some runaway slaves, and they attacked and killed him at al-Qadum. She came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and told him that she lived in a dwelling far from her family and wished to move to them. He gave her permission. She said: When I reached the apartments — or she said: I had passed the apartments — he called me back or sent someone to call me. He said to me: "Observe your waiting period in the house where the news of your husband's death reached you, until the prescribed period is fulfilled." She said: During the time of Uthman (may Allah be pleased with him), he sent for me and asked me about it, and I narrated it to him.
اردو ترجمہ
فریعہ بنت مالک رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ان کا خاوند اپنے (حبشی) غلاموں کی تلاش میں نکلا تو انہیں قدوم نامی جگہ میں پا لیا، انہوں نے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنا واقعہ بیان کیا، نیز بتایا کہ میں ایسے گھر میں رہتی ہوں، جو میرے گھر والوں سے دور ہے، لہذا میں اپنے میکے لوٹ جانا چاہتی ہوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ فریعہ کہتی ہیں: جب میں حجروں کے پاس پہنچی یا ان سے آگے نکلی، تو آپ نے مجھے آواز دی یا بلا وا بھیجا اور فرمایا: اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت پوری کریں، جہاں آپ کو ان کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ فریعہ کہتی ہیں: سیدنا عثمان رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں مجھ سے (اس بارے میں) پوچھنے کے لیے پیغام بھیجا، تو میں نے ان کو بتا دیا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 759]
