عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ، قَالَ: ثناوَكِيعٌ، عَنْعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثناالرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْأَبِيهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا، قَالَ لَنَا:" اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمَئِذٍ التَّزْوِيجُ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ، فَأَبَيْنَ إِلا أَنْ نَضْرِبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلا، قَالَ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْعَلُوا، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِيَ بُرْدَةٌ، وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، قَالَ: فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي، فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، وَكَانَ الأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، قَالَ: فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْباب قَائِمٌ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: يَأَيُّهَا النَّاسُ،أَلا إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، أَلا فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا".
انگریزی ترجمہ
Sabrah ibn Ma'bad al-Juhani (may Allah be pleased with him) narrated: We went out with the Messenger of Allah (peace be upon him) for umrah. When we completed it, he said: "You may contract mut'ah with these women." In those days, mut'ah for us meant marriage. We proposed to the women, but they refused unless we set a fixed term. We mentioned this to the Prophet (peace be upon him), who said: "Set a term." The narrator said: This was permitted but then the Prophet (peace be upon him) later forbade it.
اردو ترجمہ
سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ (عمرہ) کے لیے نکلے۔ جب ہم نے عمرہ ادا کر لیا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ان عورتوں سے (متعہ) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ ان دنوں ہمارے ہاں فائدہ اٹھانے کا طریقہ شادی تھا۔ چنانچہ ہم نے عورتوں کو شادی کی پیشکش کی، تو انہوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ ہم اپنے اور ان کے مابین مدت مقرر کریں۔ ہم نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے اس کا تذکرہ کیا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: مدت مقرر کر لیں۔ راوی کہتے ہیں: میں اور میرے چچا زاد بھائی (متعہ کے لیے) نکلے، میرے پاس ایک چادر تھی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی، لیکن میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس آئے اور اس کے سامنے اپنا مقصد پیش کیا، تو اسے میری جوانی پسند آئی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر پسند آئی۔ وہ کہنے لگی: چادریں تو ایک جیسی ہی ہیں۔ چنانچہ میں نے اس سے شادی کر لی اور ہمارے مابین دس دن کا معاہدہ طے پایا۔ میں نے وہ رات اس (عورت) کے ہاں گزاری اور اگلے دن صبح صبح مسجد چلا گیا، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمحطیم اور (بیت اللہ کے) دروازے کے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے: لوگو! میں نے تمہیں ان عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی۔ سن لیں! اللہ نے قیامت کے دن تک اس (متعہ) کو حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت موجود ہو، وہ اسے آزاد کر دے اور جو کچھ بھی اسے دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 699]
