عربی (اصل)
أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّابْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِيمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ،وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ،، أَنَّرَبِيعَة ابْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِحَدَّثَهُمْ، عَنْيَزِيدُمَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْيَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا"، قَالَ: فَضَالَةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَكَ، أَوْ لأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: فَضَالَةُ الإِبِلِ؟ قَالَ:" مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا".
انگریزی ترجمہ
Zaid ibn Khalid al-Juhani (may Allah be pleased with him) narrated: While I was with the Messenger of Allah (peace be upon him), a man came and asked about a found item. He said: "Remember its container and its tie, then announce it for one year. If its owner comes, give it to him; otherwise, use it for your needs." The man asked: What about a stray sheep? He said: "It is for you, your brother, or the wolf." He asked: What about a stray camel? The Prophet's face changed and he said: "What concern is it of yours? It has its shoes and its water-pouch, and it can reach water and eat the trees until its owner finds it."
اردو ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھا، ایک آدمی نے آ کر لقطہ (گری ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس کے برتن کی بناوٹ اور اس کے بندھن کو ذہن میں رکھیے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کیجیے، اگر اس کا مالک آجائے، تو (اسے دے دیں) ورنہ اپنی ضرورت پوری کر لیں۔“انہوں نے پوچھا:”اگر راستہ میں گمشدہ بکری مل جائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟“فرمایا:”وہ آپ کی ہوگی یا آپ کے بھائی کی، یا پھر بھیڑیا کھالے گا۔“انہوں نے پوچھا:”گمشدہ اونٹ ملے، (تو اس کا کیا حکم ہے؟)“فرمایا:”اس کے ساتھ جوتے اور اس کا مشکیزہ موجود ہے، وہ خود ہی پانی پر پہنچ جائے گا اور خود ہی درخت کے پتے کھالے گا، اس طرح کسی نہ کسی دن اس کا مالک اسے پالے گا۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 666]
