عربی (اصل)
حَدَّثَنَامَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: ثَنَاسُفْيَانُ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْنَافِعِ، عَنِابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ كَانَ سَفَعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةُ، فَثَقُلَتْ لِسَانُهُ وَكَانَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا ابْتَاعَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثًا، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْ وَقُلْ لا خِلابَةَ"، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لا خِيَابَةَ لا خِيَابَةَ".
انگریزی ترجمہ
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that Habban ibn Munqidh had received a head wound that affected his tongue, and he would be cheated in transactions. The Messenger of Allah (peace be upon him) gave him the option to cancel any purchase within three days and said: "Buy and say: 'No deceit!'" I heard him saying: 'la khiyabah, la khiyabah' (mispronouncing 'la khilabah').
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حیان بن منقذ کے سر میں زخم تھا (جس کی وجہ سے) ان کی زبان اٹکتی تھی اور وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے تھے، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں خریداری میں تین دن کا اختیار دے دیا، نیز فرمایا:”خریدتے وقت کہہ دیا کیجیے، بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔“میں نے سنا: وہ ’لا خذابة، لا خذابة‘ کہا کرتے تھے (یعنی ’لا خلابة‘ نہیں کہہ سکتے تھے)۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 567]
